امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خاموشی سے بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے، اور بسم اللہ اور سورہ فاتحہ کے درمیان وقفہ کرنے کو بدعت کہا گیا ہے؟ دراصل اس میں تفصیل ہے - حنفیہ کے مطابق اگر وقفہ بالکل واضح طور پر کیا جائے تو خلافِ سنت ہے، لیکن اگر بسم اللہ پڑھنے اور فاتحہ شروع کرنے کے درمیان سانس لینے کی غرض سے معمولی سا ٹھہراؤ ہو تو اس میں حرج نہیں۔ البتہ واضح طور پر "وقفہ" کو سنت نہیں مانتے۔
وقفہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "رکنا"، "ٹھہرنا"، "خاموش ہو جانا" یا "فاصلہ قائم کرنا" کے ہیں۔ جبکہ "برائے نماز" سے مراد وہ خاص توقف ہے جو نماز کی تلاوت کے دوران کیا جائے۔ waqfa baraye namaz in urdu written
یہ وقفہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ امام کو فاتحہ کے لیے تیار ہونے کا موقع ملے۔ حقیقت: اس کا مقصد صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔ waqfa baraye namaz in urdu written
رمضان المبارک میں تراویح کی نماز میں خاص طور پر یہ وقفہ بہت کارآمد ہوتا ہے کیونکہ طویل قیام میں سانس لینے کے لیے یہ وقفہ قدرتی طور پر آنا چاہیے۔ waqfa baraye namaz in urdu written
ائمہ محدثین اور اہل سنت کے اکثر محققین کا موقف ہے کہ وقفہ برائے نماز مستحب ہے، سنت ہے، لیکن فرض یا واجب نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی نہ کرے تو نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن اجر و ثواب میں کمی آ سکتی ہے۔ چوتھا باب: وقفہ برائے نماز کے روحانی اور عملی فوائد
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بسم اللہ کو سورہ فاتحہ کا حصہ مانا جاتا ہے، اس لیے بسم اللہ اور فاتحہ کے درمیان وقفہ کرنا گویا ایک آیت کے دو حصوں میں وقفہ کرنا ہے جو جائز نہیں۔ لہٰذا وہ وقفہ نہیں کرتے بلکہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ..." ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔